میں اور میرے دل کی گفتگو :) ٧ اگست ٢٠١٤

اگست خمس کی صبح سات بج رہیں ہیں.

صبح کے پانچ بجے آنکہ کھلی تو پتا چلا کے میں سویا ہی نہیں. اک دل کی خواش ہوئی کہ آج نماز پڑھتا ہوں. نماز پڑھ کر گیلری میں آسمان کو کالے رنگ سے سفید رنگ میں تبدیل ہوتے دیکھ رہا تھا. دور دور اذان کی آواز ( الصلوة خير من النوم ) کی آوازیں آ رہی تھیں. دل نے کھا کہ صرف نماز نیند سے بہتر نہے بلکے ہر عبادت نیند سے بہتر ہے. اک مسکن سی چہرے پر ائی اور یاسسن شریف پڑھنے کی طلب سی ہی. یٰسین پڑھتے پڑھتے اک دل کو سکون سا محسوس ہونے لگا. وہ صبح کی ٹھنڈی ھوا وہ چڑیا کی چوں چوں وہ کنوؤں کی کاں کاں اور آسمان کے کالے پردے پر وہ سفید بادلوں کا چھا جانا. سبحان الله . 

 سوال کیا کہ ہم انسانوں کا دل اس ترہا کالے سے سفید کب ہوگا ؟ دل سے آواز آئ کہ انسان کو دل اسی لیا دیا گیا تھا کہ وہ اپنے دل کو بادلوں کی ترہا نرم اور صاف رکھے، ہم انسانوں نے دماگ اتنا استعمال کر لیا ہے کہ اب دل کا وجود صرف دھڑکنا رہ گیا ہے. ہم انسانوں نے دلوں کو اسے کالا بنادیا ہے جیسے  رات میں کالے بادل سفید چمکتے روشن چاند کو دھک دیتے ہیں.

پھر دماگ نے یہ پوچھا کہ کیا دل کو سن رہے ہو جو تمھیں گلت مثال دے رہی ہے- اسی دماگ کے ذریع  میں نے سوچا کہ آخر
 مجھے خوشی کس میں ملی تو دل نے جواب دیا کہ صبح صبح ھوا کے جھونکے نے تمھیں مسکھاراہٹ دی تھی وہ تمہاری اصل خوشی تھی. تب جاکر میں نے دماگ سے سوچنا بند کیا اور دل سے گفتگو جاری رکھی.

 سوال کیا میں نے دل سے کہ یہ مجھے نیند کیوں نہیں اتی؟ دل نے جواب دیا کہ کبھی دماگ کو بھلا کر جو دنیا کی مصروفیات میں الجھاۓ رکھتا ہے، کبھی اپنے لئے دل سے عشا کی نماز پڑھ کر سو کر دیکھو اور آیات ال کرسی پڑھ کر اور یہ ارادہ کر کے میں فجر کے لیا اٹھونگا، اس رات تم اسی نیند کروگے جسے بچا پیدا ہونے کے بعد پہلی نیند کرتا ہے. 

Comments

Popular posts from this blog

PULAU PENANG (Island Of penang)

MATHEMATICS OLYMPAID